کامیابی کے قصے

بے گھری سے کاروباری تک

29 سالہ کاروبار کرنے والی سلمیٰ میرپورخاص کے ٹاؤن جھڈو میں رہتی ہیں۔ سلمیٰ کی زندگی مشکلات اور چیلینجز سے بھری رہی ہے۔ 20 برس کی عمر میں اس کی شادی 46 سالہ شخص سے کردي گئی۔

“میرے لیے یہ ایک ڈراؤنا خواب تھا۔ میں اپنی ماں سے الگ ہوکر اپنا گاؤں چھوڑ کر شہر چلی گئی، جہاں میرا شوہر کھیت مزدور کی حیثیت سے کام کرتا تھا۔ اخراجات پورے کرنے کے لیے مجھے بھی اس کے ساتھ کھیتوں میں کام کرنا پڑتا تھا۔” سلمیٰ نے بتایا۔

اس کا شوہر 57 برس کی عمر میں وفات پا گیا۔ لواحقین میں اس نے ایک بیوہ اور 4 بچے چھوڑے۔

“وہ بہت مشکل دن تھے، میں اپنے بل ادا کرنے اور بچوں کو کھانا نہیں کھلا سکتی تھی۔ ہمارے زمیندار نے کرائے کے گھر میں رہنے کی اجازت نہیں دی۔ ہم ریلوے اسٹیشن پہ سوتے تھے اور کھانے کے لیے کچھ نہیں ہوتا تھا۔ میں اپنے بچوں کو بھوک میں روتے ہوئے نہیں دیکھ سکتی تھی۔ لیکن ایک دن جو مشکلات میں نے برداشت کیں، ان مشکلات کے بارے میں سوچنا ترک کر دیا اور میں نے اپنے ذہن کو بہتر زندگی کے لیے تیار کیا۔ میں نے خود سے کہا: بالکل مجھ میں سب کچھ ہے۔ اگر میں غلط سوچتی ہوں تو معاملات نہیں چل پائیں گے.  اگر میں صحیح سوچتی ہوں تو میں سب کچھ حاصل کرنے کے قابل ہوں، اور میں نے خود کو تیار کر لیا۔ کیوں کہ میں جوان اور پرعزم تھی۔ مجھے خدا پہ بھروسا تھا۔ میں نے کبھی دوسری شادی کا نہیں سوچا۔ اپنے بچوں کو چھت فراہم کرنا اور اچھی معیاری زندگی دینا میری زندگی کا مقصد تھا،  میرے پاس 1000 روپے کی رقم تھی اور اس رقم سے میں نے ڈیکوریشن کا سامان خرید کیا اور سامان ایک ٹوکری میں رکھ کر شہر میں بیچنے لگی۔ میں نے اپنے بچوں کو بھیک مانگنے کی اجازت نہیں دی۔

معاملات آہستہ تبدیل ہونے لگے۔ میں بچوں کو تین وقت کا کھانا کھلانے کے قابل ہوگئی۔ جبکہ چھت کا مسئلا ابھی بھی ایک بڑا مسئلا تھا۔ لیکن میں مایوس نہیں ہوئی۔ ڈیڑھ سال بعد میرے پاس اتنی رقم ہوگئی کہ میں پلاٹ خرید سکوں۔ ہم ایک تنبو میں رہتے تھے۔ ایک ریلوے اسٹیشن پہ رہنے کی بنسبت ایک بہتر جگہ تھی۔ وہ میری زندگی کا سب سے زیادہ خوشی کا لمحہ تھا، جب میں نے دن رات محنت کرکے کمرا تعمیر کروایا۔

کاروبار کے لیے جدید توانائی

رانو مل 15 افراد کے مشترکہ خاندان کے ساتھ نوکوٹ کے قریب ملو ڈھانی کے گاؤں میں رہائش پذیر ہیں۔ رانو مل کا خواب تھا کو وہ پڑھیں اور استاد بنیں۔ لیکن ان کا خواب اس لیے پورا نہیں ہوسکتا تھا کیونکہ ان کا خاندان غریب تھا، اور انہیں نوجوانی میں ہی کام کرنا پڑا۔ ان کے والد بھی کھیتوں میں کام کرکے اپنے خاندان کی کفالت کرتے تھے۔

“میں 13 برس کا تھا اور سارا دن مزدوری کرنے کے بعد مجھے 50 روپے ملتے تھے، جس سے میں گھر والوں کے لیے کھانا لیتا تھا۔” رانو مل نے بتایا۔ “میں نے 20 سال کی عمر میں شادی کرلی۔ جیسے گھر کے اخراجات بڑھے، میں کپڑے کے کارخانے میں کام کرنے کے لیے کراچی چلا گیا۔ کارخانے کا علاقہ آلودہ تھا اور صفائی کی حالت بھی خراب تھی۔ میں نے وہاں 6 سال کام کیا اور بیمار ہو گیا۔ میرے گردے میں پتھری ہوگئی اور میری چھاتی بھی سخت متاثر ہوئی تھی۔ لہٰذا مجھے کراچی سول ہسپتال میں داخل ہونا پڑا۔ میرے خاندان کے لیے وہ بہت ہی مشکل وقت تھا، کیونکہ ہمارے پاس پیسے نہیں تھے، اور اپنی بڑھتی عمر کی وجہ سے والد کام نہیں کرسکتے تھے۔ میری بیوی تکیے اور گدوں کی چادریں بناتی تھی اور انہیں بیچ کر اخراجات پورے کرتی تھی۔

تقریبن ایک سال کے بعد میری طبیعت بہتر ہوئی اور میں صحتیاب ہوا۔ میں اپنے گاؤں لوٹ آیا۔ میں دیکھ کر حیران رہ گیا کہ میری بیوی نے تکیوں اور گدوں کی چادروں کا اچھا کاروبار شروع کر رکھا تھا۔ وہ اپنے ہاتھوں سے ان کی سلائی کرتی تھی۔ جب میں کراچی تھا تو میں نے بھی سلائی سیکھی تھی۔میں نے سوچا کہ اگر ہم ایک سلائی مشین خریدیں تو ہم کم وقت میں زیادہ اشیاء بنا سکتے ہیں اور زیادہ پیسے بھی کما سکتے ہیں۔ مجھے تھردیپ مائیکرو فنانس قرضے کے بارے میں آگہی تھی۔ میں ان کے دفتر گیا اور 25000 قرض کے لیے درخواست دی۔

پارتی کا عزم

کاروبار کا آغاز کرنے والی 38 سالہ پرتی میگھواڑ کا تعلق عمرکوٹ سے ہے۔ وہ ہمت اور عزم کی ایک مثال ہے۔ تین سال کی عمر میں اس کی منگنی اشوک سے کروائی گئی تھی۔ نو برس کی عمر میں اس کے خاندان کو معلوم ہوا کہ اشوک کو دماغی بیماری ہے۔ مگر گاؤں کی پنچائت نے اس کی منگنی نہ توڑنے کا فیصلا کیا۔ لہٰذا پرتی کو اشوک سے شادی کرنا پڑی۔ 2001 میں دونوں کی شادی ہوگئی اور وہ سسرال چلی گئی۔ 16 ماہ بعد اشوک کے بھائی نے دونوں کو گھر سے نکال دیا۔ اشوک اپنے گھر والوں کے لیے ایک دھیلا تک نہیں کما رہا تھا۔ پرتی نے فیصلا کیا کہ وہ گزر بسر کے لیے کام کرے گی۔ اس نے دھیج میں ملنے والے زیورات ایک مقامی ادھار دینے والے کے حوالے کیے۔ جس کے عیوض  اسے 20000 کی رقم 6 فیصد سود پر ملی۔ اس نے 14500 میں ایک پلاٹ خرید لیا، جہاں مٹی اور باڑ لگا کر اس نے چونئرا (جھوپڑی) بنایا۔ پرتی کے بھائی نے مشورہ دیا کہ باقی رقم سے وہ لکڑیاں بیچنے کا کاروبار کرے۔